(۱۷۴۹۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ أَبِی ہِلاَلٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ قَالَ : خَطَبَ عَمْرُو بْنُ حُرَیْثٍ إلَی عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ ابْنَتَہُ فَأَبَی إلاَّ عَلَی حُکْمِہِ فَرَجَعَ عَمْرٌو فَاسْتَشَارَ أَصْحَابَہُ فَقَالُوا : أَتُرِیدُ أَنْ تُحَکِّمَ رَجُلاً مِنْ طیئٍ فِی عَقْدِکَ فَأَبَتْ نَفْسُہُ فَتَزَوَّجَہَا عَلَی حُکْمِہِ ثُمَّ انْصَرَفَ فَحَکَّمَ عَدِیٌّ سُنَّۃَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ثَمَانِینَ وَأَرْبَعِ مِئَۃٍ ، فَبَعَثَ إلَیْہِ عَمْرٌو بِعَشَرَۃِ آلاَفٍ وَقَالَ : جَہِّزْہَا۔
(١٧٤٩٣) حضرت محمد بن سیرین (رض) فرماتے ہیں کہ عمرو بن حریث (رض) نے عدی بن حاتم (رض) کی بیٹی کے لیے نکاح کا پیغام بھجوایا۔ عدی بن حاتم (رض) نے فرمایا کہ مہر میرے حکم کے مطابق طے ہوگا۔ عمرو بن حریث نے اپنے دوستوں سے مشورہ کیا تو انھوں نے کہا کہ کیا تم طی کے ایک آدمی کو اپنے نکاح کے معاملے کا حاکم بناؤ گے۔ عمرو بن حریث نے پھر بھی انھیں ہی حکم سونپ دیا تو حضرت عدی نے فیصلہ کیا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت چار سو اسی ہے۔ عمرو نے انھیں دس ہزار بھیجے اور کہا کہ اپنی بیٹی کی رخصتی فرما دیجئے۔