(۱۷۴۹۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ عَقِیلَ بْنَ أَبِی طَالِبٍ تَزَوَّجَ امْرَأَۃً مِنْ بَنِی جُشَمٍ فَدَعَاہُمْ فَقَالُوا : بِالرِّفَائِ وَالبَنِیْنَ ، فَقَالَ : لاَ تَقُوْلُوْا ذَاکَ : قَالُوا : کَیْفَ نَقُوْلُ یَا أَبَا یَزِیْدٍ ؟ قَالَ : تَقُوْلُوْنَ : بَارَکَ اللَّہُ لَکَ وَبَارَکَ عَلَیْکَ فَإنَّا کُنَّا نَقُوْلُ ، أَوْ نُؤْمَرُ بِذَلِکَ۔ (ابن ماجہ ۱۹۰۶۔ احمد ۱/۴۵۱)
(١٧٤٩٨) حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عقیل بن ابی طالب (رض) نے بنو جشم کی ایک عورت سے شادی کی پھر لوگوں کی دعوت کی تو لوگوں نے انھیں بِالرِّفَائِ والبَنِیْنَ کہہ کر دعا دی۔ انھوں نے فرمایا کہ یوں نہ کہو۔ لوگوں نے پوچھا کہ پھر ہم کیا کہیں تو انھوں نے فرمایا کہ تم کہو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں برکت عطا فرمائے کیونکہ ہمیں یہی کہنے کا حکم دیا گیا ہے۔