(۱۷۵۱۳) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : {یَعْلَمُ خَائِنَۃَ الأَعْیُنِ ، وَمَا تُخْفِی الصُّدُورُ} قَالَ : الرَّجُلُ یَکُونُ فِی الْقَوْمِ فَتَمُرُّ بِہِمُ الْمَرْأَۃُ فَیُرِیہِمْ أَنَّہُ یَغُضُّ بَصَرَہُ عَنْہَا فَإِنْ رَأَی مِنْہُمْ غَفَلَۃً نَظَرَ إلَیْہَا فَإِنْ خَافَ أَنْ یَفْطَنُوا بِہِ غَضَّ بَصَرَہُ وَقَدِ اطَّلَعَ اللَّہُ مِنْ قَلْبِہِ أَنَّہُ وَدَّ أَنَّہُ نَظَرَ إلَی عَوْرَتِہَا۔
(١٧٥١٣) حضرت ابن عباس (رض) قرآن مجید کی آیت (ترجمہ) اللہ آنکھوں کی خیانت اور دل میں چھپے خیالات کو جانتا ہے۔ کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ بعض اوقات ایک آدمی کچھ لوگوں میں بیٹھا ہوتا ہے اور وہاں سے ایک عورت گذرتی ہے، وہ لوگوں کو یہ باور کراتا ہے کہ اس نے اپنی نگاہ جھکا لی ہے، پھر اگر وہ لوگوں کو خود سے غافل پاتا ہے تو عورت کو دیکھنے لگتا ہے اور اگر اسے اندیشہ ہو کہ لوگ اسے دیکھ لیں گے تو نظر کو جھکا لیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے دل کے خیالات سے بھی واقف ہے کہ وہ آدمی عورت کے چھپے ہوئے حصے کو بھی دیکھنا چاہتا ہے۔