(۱۷۵۲۷) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ حَبِیبٍ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَیْدٍ قَالَ : سُئِلَ عَمَّنْ تَزَوَّجَ امْرَأَۃً فَطَلَّقَہَا قَبْلَ أَنْ یَمَسَّہَا ثُمَّ قِیلَ لَہُ : إنَّہَا لَمْ تَحْرُمْ عَلَیْکَ فَدَخَلَ بِہَا بِالنِّکَاحِ الأَوَّلِ فَمَکَثَتْ عِنْدَہُ سَنَتَیْنِ فَوَلَدَتْ لَہُ أَوْلاَدًا فَعَلِمَ بِذَلِکَ أَنَّہَا عَلَیْہِ حَرَامٌ قَالَ : یُفَرَّقُ بَیْنَہُمَا وَیُعْطِی الْمَرْأَۃَ بِنِکَاحِہَا الأَوَّلِ نِصْفَ مَہْرِہَا ومن دُخُولِہِ بِہَا وَمُجَامَعَتِہِ إیَّاہَا مَہْرًا کَامِلاً۔
(١٧٥٢٧) حضرت جابر بن زید (رض) سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کو چھونے سے پہلے اسے طلاق دے دے اور اسے کہا جائے کہ وہ تجھ پر حرام نہیں ہوئی، اور وہ پہلے نکاح کی بنیاد پر اس سے جماع کرلے اور وہ عورت اس مرد کے پاس دو سال تک ٹھہری رہے اور اولاد کو جنم دے پھر انھیں علم ہو کہ یہ عورت تو اس مرد پر حرام ہوگئی ہے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ حضرت جابر بن زید (رض) نے فرمایا کہ ان دونوں کے درمیان جدائی کرائی جائے گی، وہ عورت کو پہلے نکاح کی وجہ سے آدھا مہر دے گا اور دخول اور جماع کی وجہ سے پورا مہر دے گا۔