(۱۷۵۶) حَدَّثَنَا مُلاَزِمُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ بَدْرٍ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ طَلْقٍ ، عَنْ أَبِیہِ طَلْقِ بْنِ عَلِیٍّ ، قَالَ : خَرَجْنَا وَفْدًا حَتَّی قَدِمْنَا عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَبَایَعْنَاہُ وَصَلَّیْنَا مَعَہُ ، فَجَائَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، مَا تَرَی فِی مَسِّ الذَّکَرِ فِی الصَّلاَۃِ ؟ فَقَالَ : وَہَلْ ہُوَ إِلاَّ بِضْعَۃٌ ، أَوْ مُضْغَۃٌ مِنْک ؟
(ابوداؤد ۱۸۴۔ ترمذی ۸۵)
(١٧٥٦) حضرت طلق بن علی فرماتے ہیں کہ ہم ایک وفد کی صورت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی اور آپ کے ساتھ نماز پڑھی۔ اتنے میں ایک آدمی آیا اور اس نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! نماز کے دوران مس ذکر کا کیا حکم ہے ؟ فرمایا کہ وہ تمہارا ایک عضو ہی تو ہے۔