(۱۷۶۳۵) حَدَّثَنَا عَبِیْدَۃُ بِنْ حُمَیْدٍ ، عَنِ الرَّکِیْنِ ، عَنْ أَبِیہِ قَالَ : خَطَبَ مَنْظُوْرُ بِنْ زَبَّان إِلَی خَالِہِ وَکَانَا حَاجَّیْنِ ، أَوْ مُعْتَمِرَیْنِ فَقَالَ : نَعَمْ إَذَا رَجَعْتُ أَنْکَحْتُکَ ، فَخَرَجَ إِلَیْہَا أَخُوْہَاَ ابْنُ أُمِّہَا وَأَبِیْہَا فَأَنْکَحَہَا ابْنَ خَالِہَا فَقَدِمَ وَقَد أنکحت ، فَغَضِبَ أَبُوہَا غَضَبًا شَدِیْدًا وَقَالَ : إِنِّی أبرأ إِلَی اللہِ مِنْ ہَذَا النِّکَاحِ ، إِنِّی سَمِعْتُ عُمَرَ یَقُوْلُ : لاَ یُنْکَحُ المُہَاجِرَاتُ الأَعْرَابَ۔
(١٧٦٣٥) حضرت رکین (رض) کے والد فرماتے ہیں کہ منظور بن زبان نے اپنے ماموں سے رشتہ مانگا۔ (اس وقت وہ دونوں حج یاعمرے میں تھے) انھوں نے جواب میں کہا کہ ٹھیک ہے جب میں واپس لوٹوں گا تو تمہارا نکاح کرادوں گا، ادھر اس لڑکی کے سگے بھائی نے اپنے ماموں زاد سے اس لڑکی کا نکاح کرادیا جس کا رشتہ اس کے باپ نے وہاں طے کیا تھا، جب وہ واپس آئے تو لڑکی کا نکاح ہوچکا تھا، وہ اس صورت حال کو دیکھ کر بہت ناراض ہوئے اور کہا کہ میں اس نکاح سے بالکل بری ہوں۔ میں نے حضرت عمر (رض) کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مہاجرات کا نکاح دیہاتیوں سے نہیں کرایا جاسکتا۔