(۱۷۶۴۲) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ قَالَ : سَأَلْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ : قُلْتُ امْرَأَۃ أَبِی أَرْضَعَتْ جَارِیَۃً مِنْ عَرَضِ النَّاسِ بِلِبَانِ إخْوَتِی مِنْ أَبِی ، تَحِلُّ لِی ؟ قَالَ : لاَ ، أَبُوک أَبُوہَا ، وَسَأَلْت طَاوُوسًا ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِکَ وَسَأَلْت الْحَسَنَ ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِکَ وَسَأَلْت مُجَاہِدًا ، فَقَالَ : اخْتَلَفَ فِیہِ النَّاسُ وَلاَ أَقُولُ فِیہَا شَیْئًا وَسَأَلْت ابْنَ سِیرِینَ ، فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِ مُجَاہِدٍ۔
(١٧٦٤٢) حضرت عباد بن منصور (رض) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت قاسم بن محمد (رض) سے سوال کیا کہ میرے والد کی بیوی نے ایک لڑکی کو میری باپ شریک بہن کے حصے کا دودھ پلایا، کیا وہ لڑکی میرے لیے حلال ہے ؟ انھوں نے فرمایا نہیں، تیرا باپ اس کا باپ ہے۔ میں نے یہی سوال حضرت طاوس (رض) کیا انھوں نے بھی یہی فرمایا۔ یہ سوال میں نے حضرت حسن (رض) سے کیا انھوں نے بھی یہی فرمایا۔ یہ سوال میں نے حضرت مجاہد (رض) سے کیا انھوں نے فرمایا کہ اس میں اہل علم کا اختلاف ہے۔ میں اس میں کوئی بات نہیں کہتا۔ میں نے ابن سیرین (رض) سے یہ سوال کیا تو انھوں نے بھی حضرت مجاہد (رض) والی بات کہی۔