(۱۷۶۴۴) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قدِمَ الزُّہْرِیُّ المدینۃ فِی أَوَّلِ خِلاَفَۃِ ہِشَامٍ فَذَکَرَ أَنَّ عُرْوَۃَ کَانَ یُحَدِّثُ ، عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّ أَبَا الْقُعَیْسِ جَائَ یَسْتَأْذِنُ عَلَی عَائِشَۃَ وَقَدْ أَرْضَعَتْہُمَا امْرَأَۃُ أَخِیہِ فَأَبَتْ أَنْ تَأْذَنَ لَہُ فَزَعَمَ عُرْوَۃُ أَنَّ عَائِشَۃَ ذَکَرَتْ ذَلِکَ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : فَہَلاَّ أَذِنْت لَہُ ؟ فَإِنَّ الرَّضَاعَۃَ تُحَرِّمُ مَا تُحَرِّمُ الْوِلاَدَۃُ فَفَزِعَ أَہْلُ الْمَدِینَۃِ لِذَلِکَ فَطَلَّقَ عَبْدُ اللہِ بْنُ أَبِی حَبِیبَۃَ مَوْلَی الزُّبَیْرِ امْرَأَتَہُ عِنْدَ ذَلِکَ۔
(١٧٦٤٤) حضرت محمد بن عمرو (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت زہری ہشام (رض) کی خلافت کے ابتدائی دنوں میں مدینہ منورہ آئے اور انھوں نے بیان کیا کہ حضرت عروہ (رض) حضرت عائشہ (رض) کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ ابو قعیس (رض) حضرت عائشہ (رض) سے ملاقات کے لیے اجازت چاہتے تھے، حضرت عائشہ (رض) اور حضرت ابو قعیس کو ابو قعیس کے بھائی کی بیوی نے دودھ پلایا تھا۔ حضرت عائشہ (رض) نے انھیں اجازت دینے سے انکار کردیا۔ حضرت عروہ (رض) کا خیال ہے کہ حضرت عائشہ (رض) نے اس بات کا تذکرہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا تو آپ نے فرمایا کہ تم نے انھیں اجازت کیوں نہیں دی، رضاعت بھی ان چیزوں کو حرام کردیتی ہے جنہیں نسب حرام کرتا ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد سن کر اہل مدینہ گھبرا گئے۔ عبداللہ بن ابی حبیبہ مولی زبیر نے اس موقع پر اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔