hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 17646

.

ابن أبي شيبة

17646
Ibn Abi Shaybah
(۱۷۶۴۷) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِی عُبَیدَۃَ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ زَمْعَۃَ عَن أُمِہ زَینَب ابنَۃ أَبِی سَلَمَۃَ قَالَت : کَانَتْ أَسْمَائُ أَرْضَعَتْنِی ، وَکَانَ الزُّبَیْرُ یَدْخُلُ عَلَیَّ وَأَنَا أَمْتَشِطُ وَیَأْخُذُ الْقَرْنَ مِنْ قُرُونِی وَیَقُولُ : أَقْبِلِی عَلیَّ فحدثنی بربی أنَّہُ أَبِی وَأن مَا وَلَدَ إخْوَتِی ، فَلَمَّا کَانَ یوم الْحَرَّۃِ أَرْسَلَ عَبْدُ اللہِ بْنُ الزُّبَیْرِ یَخْطُبُ ابْنَتِی عَلَی حَمْزَۃَ بن الزُّبَیْر وَحَمْزَۃُ وَمُصْعَبٌ لِلْکَلْبِیَّۃِ فَأَرْسَلْت إلَیْہِ : ہَلْ تَصْلُحُ لَہُ ؟ فَأَرْسَلَ إلَیَّ : إنَّمَا تُرِیدِینَ مَنْعِی بِنْتَکِ وَأَنَا أَخُوک ، وَمَا وَلَدَتْ أَسْمَائُ فَہُمْ إخْوَتُک وما وَلَدُ الزُّبَیْرِ لِغَیْرِ أَسْمَائَ فَلَیْسَ لَکَ بِإِخْوَۃٍ فَأَرْسِلِی فَسَلِی فَأَرْسَلْتُ فَسَأَلْتُ وَأَصْحَابُ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُتَوَافِرُونَ وَأُمَّہَاتُ الْمُؤْمِنِینَ فَقَالُوا : إنَّ الرَّضَاعَۃَ مِنْ قِبَلِ الرِّجَالِ لاَ تُحَرِّمُ شَیْئًا۔
(١٧٦٤٧) حضرت زینب بنت ابی سلمہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت اسمائ (رض) نے مجھے دودھ پلایا تھا۔ چنانچہ (ان کے خاوند) حضرت زبیر بن عوام (رض) میرے پاس اس وقت تشریف لے آتے جب میں کنگھی کررہی ہوتی اور میری چٹیا کو پکڑ لیتے، اور وہ مجھے اپنی بیٹی سمجھتے ہوئے مجھ سے باتیں کرتے اور وہ اپنے بیٹوں کو میرا بھائی سمجھتے۔ یومِ حرہ کو ان کے بیٹے حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) نے حمزہ بن زبیر (رض) کے لیے میری بیٹی کا ہاتھ مانگا۔ حمزہ اور مصعب (حضرت زبیر کے دو بیٹے ، حضرت اسماء کے بیٹے نہ تھے بلکہ ) بنو کلب کی عورت سے تھے۔ میں نے عبداللہ بن زبیر (رض) کو پیغام دیا کہ کیا میری بیٹی کا نکاح ان سے ہوسکتا ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ کیا تم میری طرف سے بھیجے گئے رشتے کا انکار کررہی ہو حالانکہ میں تمہارا بھائی ہو ؟ جو بچے حضرت اسمائ (رض) سے ہوئے ہیں وہ تمہارے بھائی ہیں اور جو حضرت زبیر (رض) کی کسی اور بیوی سے ہوئے ہیں وہ تمہارے بھائی نہیں ہیں، تم یہ مسئلہ کسی اور سے پوچھ سکتی ہو۔ اس وقت بہت سے صحابہ کرام (رض) اور امہات المومنین (رض) بقیدِ حیات تھے، میں نے ان سے سوال کیا تو سب نے فرمایا کہ مردوں کی طرف سے آنے والی رضاعت کسی چیز کو حرام نہیں کرتی۔