(۱۷۶۸۶) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَائِشَۃَ فِی قَوْلِہِ : {وَمَا یُتْلَی عَلَیْکُمْ فِی الْکِتَابِ فِی یَتَامَی النِّسَائِ اللاَّتِی لاَ تُؤْتُونَہُنَّ مَا کُتِبَ لَہُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْکِحُوہُنَّ} قَالَتْ : أُنْزِلَتْ فِی الْیَتِیمَۃِ تَکُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ فَتَشْرَکُہُ فِی مَالِہِ فَیَرْغَبُ عَنْہا أَنْ یَتَزَوَّجَہَا وَیَکْرَہَ أَنْ یَتَزَوَّجَہَا غَیْرُہُ فَیَشْرَکَہُ فِی مَالِہِ فَیَعْضُلَہَا فَلاَ یَتَزَوَّجُہَا وَلاَ یُزَوِّجُہَا غَیْرَہُ۔ (بخاری ۵۱۳۱۔ مسلم ۲۳۱۵)
(١٧٦٨٦) حضرت عائشہ (رض) قرآن مجید کی آیت { فِیْ یَتَامَی النِّسَآئِ اللَّاتِیْ لَا تُؤْتُوْنَھُنَّ مَا کُتِبَ لَھُنَّ وَتَرْغَبُوْنَ أَنْ تَنْکِحُوْھُنَّ } کی تفسیر میں فرماتی ہیں کہ یہ آیت اس یتیم لڑکی کے بارے میں نازل ہوئی جو ایک آدمی کے پاس تھی اور اس کے مال میں شریک تھی، وہ آدمی اس سے شادی کرنے کو ناپسند کرتا تھا اور اس بات کو بھی ناپسند کرتا تھا کہ کوئی اور اس سے شادی کرے اور اس کے مال میں شریک ہو، وہ اسے شادی سے محروم رکھتا تھا نہ خود اس سے شادی کرتا تھا نہ کسی اور کو کرنے دیتا تھا۔