(۱۷۶۹۰) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ عن إسْرَائِیلَ ، عَنِ السُّدِّیِّ ، عَنْ أَبِی مَالِکٍ فِی قَوْلِ اللہِ : {وَمَا یُتْلَی عَلَیْکُمْ فِی الْکِتَابِ فِی یَتَامَی النِّسَائِ اللاَّتِی لاَ تُؤْتُونَہُنَّ مَا کُتِبَ لَہُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْکِحُوہُنَّ} ، فَقَالَ : کَانَتِ الْمَرْأَۃُ إذَا کَانَتْ عِنْدَ وَلِیٍّ رَغِبَ عَنْ حَسَبِہَا ، أَوْ حُسْنِہَا ، شَکَّ أَبُو بَکْرٍ ، ثُمَّ تَزَوَّجَہَا وَلَمْ یَتْرُکْ أَحَدًا یَتَزَوَّجُہَا : {وَالْمُسْتَضْعَفِینَ مِنَ الْوِلْدَانِ وَأَنْ تَقُومُوا لِلْیَتَامَی بِالْقِسْطِ} قَالَ : کَانُوا لاَ یُوَرِّثُونَ إلاَّ الأَکْبَرَ فَالأَکْبَرَ۔
(١٧٦٩٠) حضرت ابو مالک (رض) قرآن مجید کی آیت { فِیْ یَتَامَی النِّسَآئِ اللَّاتِیْ لَا تُؤْتُوْنَھُنَّ مَا کُتِبَ لَھُنَّ وَتَرْغَبُوْنَ أَنْ تَنْکِحُوْھُنَّ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ عورت جب کسی ولی کے پاس ہوتی تو وہ اس کے خاندان اور حسن سے اعراض کرتے ہوئے نہ تو اس سے خود شادی کرتا اور نہ اسے کسی سے شادی کرنے دیتا۔ اور قرآن مجید کی اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں { وَالْمُسْتَضْعَفِینَ مِنَ الْوِلْدَانِ وَأَنْ تَقُومُوا لِلْیَتَامَی بِالْقِسْطِ } کہ لوگ پہلے بڑے کو پھر اس سے چھوٹے کو وارث بناتے تھے۔