(۱۷۷۳۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنِ الجَلْد بِنْ أَیُّوْبٍ ، عَنْ مَعَاوِیَۃ بْنِ قُرّۃ ، عَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْروٍ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَکَانَ مِمَّنْ بَایَعَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ ؛ أَنَّ امْرَأَۃً مِنْ نِسَائِہِ نَفَسَتْ فَرَأَتِ الطُّہْرَ لِعِشْرِیَنَ لَیْلَۃً فَاغْتَسَلَتْ ثُمَّ جَائَتْ فَدَخَلَتْ مَعَہُ فِی لِحَافِہِ فَقَالَ : مَنْ ہَذِہِ ؟ فَقَالَتْ : فُلاَنَۃُ ، فَقَالَ : أَوَلَیْسَ قَدْ نَفِسْت ؟ قَالَتْ : إذًا قَدْ رَأَیْت الطُّہْرَ ، قَالَ : فَضَرَبَہَا بِرِجْلِہِ حَتَّی أَخْرَجَہَا مِنَ اللِّحَافِ وَقَالَ : لاَ تغُرنی عَنْ دِینِی حَتَّی یَمْضِیَ أَرْبَعُونَ یَوْمًا۔
(١٧٧٣٨) حضرت عائذ بن عمرو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ایک صحابی ہیں، یہ ان حضرات میں سے ہیں جنہوں نے بیعت رضوان میں حصہ لیا، ان کی ایک زوجہ کو نفاس لاحق ہوا، وہ بیس دن بعد پاک ہوگئیں، لہٰذا غسل کیا اور آکر اپنے خاوند کے لحاف میں ان کے ساتھ لیٹ گئیں۔ انھوں نے پوچھا کون ہے ؟ بتایا کہ فلانی ہے۔ انھوں نے کہا کہ تم حالت نفاس میں نہیں تھی ؟ زوجہ نے کہا کہ میں پاک ہوگئی ہوں، انھوں نے ٹانگ کے ذریعے انھیں اپنے لحاف سے نکال دیا اور فرمایا کہ مجھے میرے دین کے بارے میں دھوکا نہ دو ، جب تک چالیس دن نہ گذر جائیں مت آنا۔