(۱۷۷۴۶) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ : قُلْتُ لَہُ : إنَّ أَبَا مُوسَی نَہَی حِینَ فَتَحَ تُسْتَرَ : أَلاَ تُوطَأُ الْحَبَالَی ، وَلاَ یُشَارِکُ الْمُشْرِکِینَ فِی أَوْلاَدِہِمْ ، فَإِنَّ الْمَائَ یَزِیدُ فِی الْوَلَدِ ، أَشَیْئٌ قَالَہُ بِرَأْیِہِ ؟ أَوْ شَیْئٌ رَوَاہُ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : نَہَی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ أَوْطَاسٍ أَنْ تُوطَأَ حَامِلٌ حَتَّی تَضَعَ ، أَوْ حَائل حَتَّی تُسْتَبْرَأَ۔
(١٧٧٤٦) حضرت داؤد (رض) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی (رض) سے کہا کہ حضرت ابو موسیٰ (رض) نے تستر کی فتح کے دن فرمایا تھا کہ کسی حاملہ عورت سے جماع نہ کیا جائے اور مشرکین کی اولاد میں شراکت نہ کی جائے، کیونکہ پانی بچے میں اضافہ کرتا ہے۔ انھوں نے یہ بات اپنی رائے سے کہی تھی یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی تھی۔ انھوں نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اوطاس کی فتح کے دن فرمایا تھا کہ کسی حاملہ سے بچے کی پیدائش سے پہلے جماع نہ کیا جائے اور دوسری خواتین سے اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک ان کے رحم کا خالی ہونا معلوم نہ ہوجائے۔