(۱۷۷۶۶) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ خِلاَسٍ قَالَ : تَزَوَّجَ أَخَوَانِ أُخْتَیْنِ ، فَأُدْخِلَتِ امْرَأَۃُ ہَذَا عَلَی ہَذَا ، وَامْرَأَۃُ ہَذَا عَلَی ہَذَا ، فَرُفِعَ ذَلِکَ إلَی عَلِیٍّ ، فَرَدَّ کُلَّ وَاحِدَۃٍ مِنْہُمَا إلَی زَوْجِہَا ، وَأَمَرَ زَوْجَہَا أَنْ لاَ یَقْرَبَہَا حَتَّی تَنْقَضِیَ عِدَّتُہَا ، وَجَعَلَ لِکُلِّ وَاحِدَۃٍ مِنْہُمَا الصَّدَاقَ عَلَی الَّذِی وَطِئَہَا لِغِشْیَانِہِ إیَّاہَا ، وَجَعَلَ جَہَازَہَا وَالْغُرْمَ عَلَی الَّذِی زَوَّجَہَا۔
(١٧٧٦٦) حضرت خلاس (رض) فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ دو بھائیوں کا د و بہنوں سے نکاح ہوا، ہر ایک کے پاس منکوحہ کے علاوہ دوسری عورت لائی گئی، یہ مقدمہ حضرت علی (رض) کی عدالت میں پیش ہوا آپ نے ہر عورت کو اس کے اصل خاوند کی طرف واپس فرمایا اور حکم دیا کہ عدت گزرنے تک خاوند اپنی بیویوں کے قریب نہ جائیں۔ پھر آپ نے جماع کرنے والوں پر مہر کو لازم قرار دیا اور تاوان اس شخص پر لازم کیا جس نے شادی کرائی تھی۔