(۱۷۷۸۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی قَالَ : سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَۃً عَلَی عَاجِلٍ أَوْ آجِلٍ فَدَخَلَ بِہَا فَادَّعَتْ أنَّہُ لَمْ یَِبَِرأ إِلِیْہَا مِنَ العَاجِلِ فَقَالَ : حَدَّثَنَا سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ أَنَّہُ کَانَ یَقُوْلُ : المَخْرَجُ عَلَیْہَا فِیَ العَاجِلِ ، أَنَّہُ بَقِیَ عَلَیْہِ کَذَا وکَذَا وَدُخُوْلُہُ عَلَیْہَا أَبْرَأَہُ۔
(١٧٧٨١) حضرت عبدالاعلیٰ (رض) سے سوال کیا گیا کہ ایک آدمی نے عورت سے عاجل اور آجل مہر کے عوض نکاح کیا، آدمی نے عورت سے شرعی ملاقات بھی کی لیکن عورت نے یہ دعویٰ کردیا کہ اس نے ابھی عاجل مہر ادا نہیں کیا۔ تو حضرت عبدالاعلیٰ (رض) نے فرمایا کہ سعید (رض) نے قتادہ (رض) کے بارے میں بیان کیا ہے کہ وہ فرمایا کرتے تھے کہ عاجل میں عورت کے لیے مہر کے نکالے جانے کی صورت یہ ہے کہ مرد پر اتنا مہر باقی رہ گیا ہے اور مرد کا عورت سے دخول کرنا عاجل سے بری ہونا ہے۔