(۱۷۷۸۴) حَدَّثَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ، عَنْ أَسْلَمَ الْمُنْقِرِیِّ ، عَنْ عبد اللہِ بْنِ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ قَالَ : بَاعَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ جَارِیَۃً کَانَ وَقَعَ عَلَیْہَا قَبْلَ أَنْ یَسْتَبْرِئَہَا فَظَہَرَ بِہَا حَمْلٌ عِنْدَ الَّذِی اشْتَرَاہَا فَخَاصَمَہُ إلَی عُمَرَ ، فَقَالَ عُمَرُ ہَلْ کُنْت تَقَعُ عَلَیْہَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَبِعْتہَا قَبْلَ أَنْ تَسْتَبْرِئَہَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : مَا کُنْت لِذَلِکَ بِخَلِیقٍ ، قَالَ : فَدَعَا الْقَافَۃَ فَنَظَرُوا إلَیْہِ فَأَلْحَقُوہُ بِہِ ، قَالَ : فَوُلِدَ لَہُ مِنْہَا ولد کَثِیرٌ فَمَا عَیَّرُوہُ بِہِ۔
(١٧٧٨٤) حضرت عبداللہ بن عبید بن عمیر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض) نے اپنی ایک باندی کے رحم کے خالی ہونے کا یقین کرنے سے پہلے اسے فروخت کردیا، پھر خریدنے والے کے پاس اس کا حمل ظاہر ہوا۔ تو یہ مقدمہ حضرت عمر (رض) کے پاس پیش کیا گیا۔ حضرت عمر (رض) نے حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض) سے فرمایا کہ کیا تم اس سے جماع کیا کرتے تھے ؟ انھوں نے اقرار کیا، پھر پوچھا کہ کیا تم نے اس کے رحم کے صاف ہونے کا یقین کئے بغیر اسے بیچ دیا۔ انھوں نے اقرار کیا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ پھر انھوں نے قیافہ شناسوں کو بلایا، انھوں نے بچے کو دیکھا تو حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض) کا بچہ قرار دیا، پھر اس باندی سے حضرت عبد الرحمن (رض) کی بہت اولاد ہوئی اور کسی نے اسے برا قرار نہ دیا۔