(۱۷۸۰۹) حَدَّثَنَا یَزِیدُ، عَنْ حَبِیبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ ہَرِمٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَیْدٍ؛ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ کَانَتْ تَحْتَہُ نَصْرَانِیَّۃٌ فَأَسْلَمَتْ ، وَأَبَی زَوْجُہَا أَنْ یُسْلِمَ قَالَ : أَرَی أَنْ یُفَرَّقَ بَیْنَہُمَا ، فَإِنْ کَانَ دَخَلَ بِہَا فَلَہَا الْمَہْرُ کَامِلاً ، وَإِنْ لَمْ یَکُنْ دَخَلَ بِہَا رَدَّتْ إلَیْہِ مَا أَعْطَاہَا۔
(١٧٨٠٩) حضرت جابر بن زید (رض) سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی کافر مرد کے نکاح میں عیسائی عورت ہو اور وہ عورت اسلام قبول کرلے جبکہ اس کا شوہر اسلام قبول کرنے سے انکار کردے تو کیا حکم ہے ؟ حضرت جابر بن زید (رض) نے فرمایا کہ میری رائے یہ ہے کہ دونوں کے درمیان جدائی کرادی جائے گی، اگر مرد نے دخول کیا ہے تو عورت کو پورا مہر ملے گا اور اگر دخول نہیں کیا تو عورت اسے حاصل شدہ مال واپس کرے گی۔