(۱۷۸۵۰) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الْجُرَیْرِیِّ ، عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ ، عَنِ الطُّفَاوِیِّ ، عَنْ أَبِی ہریرۃ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : عسی أَحَدُکُمْ یُخْبِرُ بِمَا صَنَعَ بِأَہْلِہِ ؟ وَعَسَی إحْدَاکُنَّ أَنْ تُخْبِرَ بِمَا یصْنَعُ بِہَا زَوْجُہَا ، فَقَامَتِ امْرَأَۃٌ سَوْدَائُ ، فَقَالَتْ : یَا رَسُولَ اللہِ ، إنَّہُمْ لَیَفْعَلُونَ وَإِنَّہُنَّ لَیَفْعَلْنَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: أَلاَ أُخْبِرُکُمْ بِمَثَلِ ذَلِکَ؟ إنما مَثَلُ ذَلِکَ کَمَثَلِ شَیْطَانٍ لَقِیَ شَیْطَانَۃً فَوَقَعَ عَلَیْہَا فِی الطَّرِیقِ وَالنَّاسُ یَنْظُرُونَ فَقَضَی حَاجَتَہُ مِنْہَا وَالنَّاسُ یَنْظُرُونَ۔(ابوداؤد ۴۰۱۵۔ احمد ۲/۵۴۰)
(١٧٨٥٠) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ یہ بات کیسے درست ہے کہ تم مردوں میں سے کوئی شخص اپنی بیوی سے ملاقات کی تفصیل لوگوں کو بتائے یا تم میں سے کوئی عورت اپنے خاوند سے ملاقات کی تفصیل لوگوں کو بتائے۔ اس پر ایک سیاہ فام عورت نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! کہ جب مرد اور عورت یہ کرتے ہیں تو بتانے میں کیا حرج ہے ؟ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میں تمہیں یہ بات ایک مثال سے سمجھاتا ہوں، اس کی مثال ایسے ہے جیسے نر شیطان کسی مادہ شیطان سے ملتا ہے اور راستہ میں اس سے جماع کرتا ہے جبکہ لوگ دیکھ رہے ہوتے ہیں، وہ اس سے اپنی ضرورت پوری کرتا ہے جبکہ لوگ دیکھ رہے ہوتے ہیں۔