(۱۷۸۹۴) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ : کَانَ عَطَائٌ وَأَخَوَاتٌ لَہُ بِمَکَّۃَ فِی بَیْتٍ وَأَہْلُ مَکَّۃَ یَخْتَلِفُ أَحَدُہُمْ إلَی أَہْلِہِ فِی اللَّیْلِ مِرَارًا ، فَکَانَ یَأْتِیہِنَّ بِاللَّیْلِ فَسَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ : أَسْتَأْذِنُ عَلَیْہِنَّ کُلَّمَا دَخَلْت؟ فَقَالَ : نَعَمْ ، وَلَمْ یُرَخِّصْ لَہُ فِی الدُّخُولِ عَلَیْہِنَّ بِغَیْرِ إذْنٍ۔
(١٧٨٩٤) حضرت مجاہد (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عطائ (رض) اور ان کی کچھ بہنیں مکہ میں ایک گھر میں رہتے تھے۔ حضرت عطائ (رض) اپنی مصروفیات کی وجہ سے رات کو دیر سے گھر آتے تھے۔ انھوں نے حضرت ابن عباس (رض) سے سوال کیا کہ میں جب بھی ان کے پاس جاؤں تو ان سے اجازت طلب کروں ؟ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ ہاں اور آپ نے انھیں بغیر اجازت جانے کی اجازت نہ دی۔