(۱۸۰۲۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ یَزِیدَ الدَّالاَنِیِّ ، عَنْ أَبِی الْعَلاَئِ ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْیَرِیِّ ، قَالَ : بَلَغَ أَبَا مُوسَی أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَجَدَ عَلَیْہِمْ ، فَأَتَاہُ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَہُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : یَقُولُ أَحَدُکُمْ : قَدْ تَزَوَّجْتُ ، قَدْ طَلَّقْتُ وَلَیْسَ کَذَا عِدَّۃُ الْمُسْلِمِینَ ، طَلِّقُوا الْمَرْأَۃَ فِی قُبُلِ عِدَّتِہَا۔ (ابن ماجہ ۲۰۱۷۔ ابن حبان ۴۲۶۵)
(١٨٠٢٣) حضرت حمید بن عبد الرحمن حمیری (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ (رض) کو خبر پہنچی کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں سے ناراض ہوئے ہیں۔ حضرت ابو موسیٰ (رض) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس کا تذکرہ کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تم میں سے ایک کہتا ہے کہ میں نے شادی کی ! میں نے طلاق دے دی ! یہ مسلمانوں کا طریقہ نہیں ہے۔ عورت کی اس کی عدت کے شروع میں طلاق دو ۔ (کہ اس کے لیے عدت کو شمار کرنا آسان ہو)