(۱۸۰۲۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ یَزِیدَ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ قَالَ : قَالَ رَجُلٌ ، یَعْنِی عَلِیًّا ، لَوْ أَنَّ النَّاسَ أَصَابُوا حَدَّ الطَّلاَقِ مَا نَدِمَ رَجُلٌ عَلَی امْرَأَۃٍ ، یُطَلِّقُہَا وَہِیَ حَامِلٌ قَدْ تَبَیَّنَ حَمْلُہَا ، أَوْ طَاہِرٌ لَمْ یُجَامِعْہَا مُنْذُ طَہُرَت ، یَنْتَظِرُ حَتَّی إذَا کَانَ فِی قُبُلِ عِدَّتِہَا طَلَّقَہَا ، فَإِنْ بَدَا لَہُ أَنْ یُرَاجِعَہَا رَاجَعَہَا ، وَإِنْ بَدَا لَہُ أَنْ یُخَلِّیَ سَبِیلَہَا خَلَّی سَبِیلَہَا۔
(١٨٠٢٥) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ اگر لوگوں کو طلاق پر حد کا سامنا کرنا پڑے تو کوئی آدمی اپنی بیوی کو حالت حمل میں طلاق دینے کے بعد اور اس طہر میں طلاق دینے کے بعد جس میں اس سے جماع نہ کیا ہو، نادم نہ ہو، وہ انتظار کرے اور اسے عدت کے شروع میں طلاق دے، پھر اگر رجوع کرنا چاہے تو رجوع کرلے اور اگر اسے رخصت ہی کرنا چاہے تو رخصت کردے۔