(۱۸۱۰۲) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ ہَارُونَ بْنِ عَنْتَرَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَأَتَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ : یَا ابْنَ عَبَّاسٍ ، إنَّہُ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ مِئَۃَ مَرَّۃٍ ، وَإِنَّمَا قُلْتُہَا مَرَّۃً وَاحِدَۃً فَتَبِینُ مِنِّی بِثَلاَثٍ ، ہِیَ وَاحِدَۃٌ ؟ فَقَالَ : بَانَتْ مِنْک بِثَلاَثٍ ، وَعَلَیْک وِزْرُ سَبْعَۃٍ وَتِسْعِینَ۔
(١٨١٠٢) حضرت عنترہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس (رض) کے پاس بیٹھا تھا کہ ان کے پاس آیا اور اس نے کہا اے ابن عباس ! میں نے اپنی بیوی کو سو طلاقیں دے دیں، میں نے یہ ایک ہی جملے میں دی ہیں، کیا وہ تین طلاقوں کے ذریعے مجھ سے بائنہ ہوگئی جبکہ وہ ایک ہی ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ وہ تین طلاقوں کے ذریعے تجھ سے بائنہ ہوگئی اور تجھ پر ستانوے طلاقوں کا گناہ ہے۔