(۱۸۱۱۰) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، عَنْ عَلْقَمَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ قَالَ : أَتَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ: إنَّہُ کَانَ بَیْنِی وَبَیْنَ امْرَأَتِی کَلاَمٌ ، فَطَلَّقْتُہَا عَدَدَ النُّجُومِ ، قَالَ : تَکَلَّمْتَ بِالطَّلاَقِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ : قَدْ بَیَّنَ اللَّہُ الطَّلاَقَ ، فَمَنْ أَخَذ بِہِ فَقَدْ بُیِّنَ لَہُ ، وَمَنْ لَبَّسَ عَلَی نَفْسِہِ جَعَلْنَا بِہِ لَبْسَہُ ، وَاللَّہِ لاَ تُلَبِّسُوا عَلَی أَنْفُسِکُمْ وَنَتَحَمَّلُہُ عَنْکُمْ ، ہُوَ کَمَا تَقُولُونَ ، ہُوَ کَمَا تَقُولُونَ۔
(١٨١١٠) حضرت عبداللہ (رض) کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے کہا کہ میری اور میری بیوی کے درمیان کچھ بات چیت بڑھ گئی اور میں نے اسے ستاروں کی تعداد کے برابر طلاق دے دی۔ انھوں نے فرمایا کہ کیا تم نے طلاق کا لفظ کہا تھا ؟ اس نے کہا کہ جی ہاں۔ حضرت عبداللہ (رض) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے طلاق کو واضح کرکے بیان کردیا ہے، جو اس سے استفادہ کرے تو اس کے لیے وضاحت ہوجاتی ہے اور جو اسے اپنے لیے مشکل بنالے ہم اس کے لیے مشکل بنادیتے ہیں۔ خدا کی قسم ! اپنے نفوس کو ایسی مشکل میں نہ ڈالو جسے تمہاری طرف سے ہمیں برداشت کرنا پڑے۔ معاملہ وہی ہے جو تم کہتے ہو، معاملہ وہی ہے جو تم کہتے ہو۔