(۱۸۱۵۳) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ بُکَیْرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ ، قَالَ : کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ، فَسَأَلَہُ رَجُلٌ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ بِکْرًا ثَلاَثًا ؟ قَالَ عَطَائٌ : فَقُلْتُ : ثَلاَثٌ فِی الْبِکْرِ وَاحِدَۃٌ ، وَقَالَ عَبْدُ اللہِ بْنُ عَمْرٍو : مَا یُدْرِیْکَ ؟ إنَّمَا أَنْتَ قَاصٍّ وَلَسْتَ بِمُفْتٍ ، الْوَاحِدَۃُ تُبَینُہَا وَالثَّلاَثُ تُحَرِّمُہَا حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ۔
(١٨١٥٣) حضرت عطائ (رض) فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) کے پاس بیٹھا تھا ان سے ایک آدمی نے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص اپنی باکرہ بیوی کو تین طلاقیں دے دے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ حضرت عطائ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ باکرہ کو تین کا کیا مطلب، اس کے لیے تو ایک ہی کافی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) نے فرمایا کہ تمہیں کیا معلوم، تم قاضی ہو مفتی نہیں، ایک طلاق اسے بائنہ بنادے گی اور تین طلاقیں اسے حرام کردیں گی یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے شخص سے شادی کرے۔