(۱۸۱۷۸) حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَیُّوبُ ؛ أَنَّ طَاوُوسًا قَالَ : جَائَ أَبُو الصَّہْبَائِ إلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ لَہُ : ہَاتِ مِنْ ہُنْیَّاتِکَ : إنَّ الثَّلاَثَ کُنَّ یُحْسَبْنَ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَبِی بَکْرٍ وَصَدْرِ إمَارَۃِ عُمَرَ وَاحِدَۃً ، فَلَمَّا رَأَی عُمَرُ النَّاسَ قَدْ تَتَابَعُوا فِی الطَّلاَقِ ، فَأَجَازَہُنَّ عَلَیْہِ۔ (مسلم ۱۰۹۹۔ ابوداؤد ۲۱۹۲)
(١٨١٧٨) حضرت طاوس (رض) فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ابو صہباء حضرت ابن عباس (رض) کے پاس آئے۔ انھوں نے کہا کہ تم اپنا تھوڑا سا وقت دو : تین طلاقیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں ، پھر حضرت ابوبکر (رض) کے زمانے اور پھر حضرت عمر (رض) کے ابتدائی زمانے میں ایک ہی شمار کی جاتی تھیں پھر جب حضرت عمر (رض) نے لوگوں کو دیکھا کہ انھوں نے طلاق دینے کو معمول ہی بنا لیا ہے تو انھوں نے تین طلاقوں کو تین قرار دے دیا۔