(۱۸۲۵۰) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیِلُ بْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ یُونُس ، قَالَ : حدَثَنِیِ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الشَّامِ ، لَمْ أَرَ بِہِ بَأْسًا ، قَالَ : کُنَّا فِی غَزَاۃٍ ، فَبَرْسَمَ صَاحِبٌ لَنَا ، فَطلَّّقَ امْرَأَتَہُ ثَلاثَا ، فَلَمَا أفَاَقَ قَالُوا لَہُ : قُلْتَ کَذَا وَکذَا ، قَالَ : مَاَ أَعْلَمَنِی ، قُلْتُ : مِنْ ہَذَا قَلِیلاً ، وَلاَ کَثِیِرًا ، وَمَا أَعْرِفْہُ ، فَرَکِبَ رَجُلٌ مِنَّا إِلی عُمَرَ بْنُ عَبْدِ العَزِیزِ فِی حَاجَۃٍ ، فلَمَّا قضَی حَاجتَہُ سَأَلَہُ عَنْ ذَلِکَ ، فَدَیَّنَہُ۔
(١٨٢٥٠) حضرت یونس (رض) فرماتے ہیں کہ ایک شامی شخص نے مجھ سے بیان کیا کہ ہم ایک غزوہ میں تھے، کہ ہمارے ایک ساتھی کوالٹی سیدھی باتیں کرنے والی بیماری ہوگئی، اس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں۔ جب اسے افاقہ ہوا تو لوگوں نے اس سے کہا کہ تو نے یہ یہ بات کی تھی، اس نے کہا کہ مجھے تو کوئی علم نہیں کہ میں نے اس طرح کی کوئی تھوڑی یا زیادہ بات کی ہو اور میں نہیں جانتا۔ ہم میں سے ایک سوار کسی ضرورت کے لیے حضرت عمر بن عبد العزیز (رض) کے پاس گیا جب اس نے ضرورت پوری کرلی تو اس بارے میں سوال کیا، انھوں نے فرمایا کہ اس سے کوئی اثر نہیں پڑتا۔