(۱۸۲۸۰) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ السُّمَیْطِ السَّدُوسِیِّ ، قَالَ : خَطَبْتُ امْرَأَۃً ، فَقَالُوا لِی : لاَ نُزَوِّجُک حَتَّی تُطَلِّقَ امْرَأَتَکَ ثَلاَثًا ، فَقُلْتُ : قَدْ طَلَّقْتہَا ثَلاَثًا ، قَالَ : فَزَوَّجُونِی ثُمَّ نَظَرُوا ، فَإِذَا امْرَأَتِی عِنْدِی، فَقَالُوا: أَلَیْسَ قَدْ طَلَّقْتَ امْرَأَتَکَ ؟ قُلْتُ : بَلی ، کَانَتْ تَحْتِی فُلاَنَۃُ بِنْتُ فُلاَنٍ ، فَطَلَّقْتہَا ، فَأَمَّا ہَذِہِ فَلَمْ أُطَلِّقْہَا ، فَأَتَیْت شَقِیقَ بْنَ مَجْزَأَۃَ بْنِ ثَوْرٍ وَہُوَ یُرِیدُ الْخُرُوجَ إلَی عُثْمَانَ ، فَقُلْتُ : سَلْ أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ عَنْ ہَذِہِ ، فَسَأَلَہُ ؟ فَقَالَ : نِیَّتُہُ۔
(١٨٢٨٠) سمیط سدوسی (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک عورت کے لیے نکاح کا پیغام بھیجا، انھوں نے مجھے کہا کہ جب تک تم اپنی بیوی کو طلاق نہ دو ہم نکاح نہیں کریں گے، میں نے اسے تین طلاقیں دے دیں، انھوں نے میری شادی کرادی، شادی کے بعد انھوں نے دیکھا کہ میری بیوی تو میرے پاس ہے، انھوں نے کہا کہ تم نے اپنے بیوی کو طلاق نہیں دی تھی ؟ میں نے کہا کہ دی تھی۔ میرے نکاح میں فلانہ بنت فلاں تھی میں نے اس کو طلاق دی تھی اس کو نہیں دی تھی۔ پھر میں شقیق بن مجزاۃ کے پاس آیا وہ حضرت عثمان (رض) کے پاس جانے کا ارادہ کررہے تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ امیر المومنین سے اس بارے میں سوال کرنا، انھوں نے سوال کیا تو حضرت عثمان نے فرمایا کہ اس کی نیت کا اعتبار ہے۔