(۱۸۳۹۹) حدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : مَا أُبَالِی خَیَّرْتُ امْرَأَتِی وَاحِدَۃً ، أَوْ مِئَۃً ، أَوْ أَلْفًا ، بَعْدَ أَنْ تَخْتَارَنِی ، وَلَقَدْ أَتَیْتُ عَائِشَۃَ فَسَأَلْتہَا عَنْ ذَلِکَ ؟ فَقَالَتْ : قَدْ خَیَّرَنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاخْتَرْنَاہُ ، أَفَکَانَ طَلاَقًا ؟۔ (بخاری ۵۲۶۳۔ مسلم ۱۱۵۴)
(١٨٣٩٩) حضرت مسروق (رض) فرماتے ہیں کہ مجھے اس بات کی کوئی پروا نہیں کہ میری بیوی مجھے اختیار کرنے کے بعد ایک، سو یا ہزار طلاقیں اختیار کرلے۔ میں حضرت عائشہ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے اس بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اختیار دیا تھا اور ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اختیار کیا تھا تو کیا یہ طلاق ہوگئی ؟