hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 18401

.

ابن أبي شيبة

18401
Ibn Abi Shaybah
(۱۸۴۰۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ جَرِیرِ بْنِ حَازِمٍ ، عَنْ عِیسَی بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ زَاذَانَ ، قَالَ : کُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عَلِیٍّ ، فَسُئِلَ عَنِ الْخِیَارِ ؟ فَقَالَ : سَأَلَنِی عَنْہَا أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ عُمَرُ ، فَقُلْتُ : إِنِ اخْتَارَتْ نَفْسَہَا فَوَاحِدَۃٌ بَائِنَۃٌ ، وَإِنِ اخْتَارَتْ زَوْجَہَا فَوَاحِدَۃٌ ، وَہُوَ أَحَقُّ بِہَا ، فَقَالَ : لَیْسَ کَمَا قُلْتَ : إِنِ اخْتَارَتْ نَفْسَہَا فَوَاحِدَۃٌ ، وَہُوَ أَحَقُّ بِہَا ، وَإِنِ اخْتَارَتْ زَوْجَہَا فَلاَ شَیْئَ ، وَہُوَ أَحَقُّ بِہَا ، فَلَمْ أَجِدْ بُدًّا مِنْ مُتَابَعَۃِ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ ۔ فَلَمَّا وُلِّیتُ وَأَتَیْتُ فِی الْفُرُوجِ رَجَعْت إلَی مَا کُنْت أَعْرِفُ ، فَقِیلَ لَہُ : رَأْیُکُمَا فِی الْجَمَاعَۃِ أَحَبُّ إِلَیْنَا مِنْ رَأْیِکَ فِی الْفُرْقَۃِ ، فَضَحِکَ عَلِیٌّ وَقَالَ : أَمَا إِنَّہُ أَرْسَلَ إِلَی زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، فَسَأَلَہُ ؟ فَقَالَ : إِنِ اخْتَارَتْ نَفْسَہَا فَثَلاَثٌ ، وَإِنِ اخْتَارَتْ زَوْجَہَا فَوَاحِدَۃٌ بَائِنَۃٌ۔
(١٨٤٠٢) حضرت زاذان (رض) فرماتے ہیں کہ ہم حضرت علی (رض) کے پاس بیٹھے تھے کہ ان سے اختیار کے بارے میں سوال کیا گیا۔ انھوں نے فرمایا کہ امیر المومنین حضرت عمر (رض) نے مجھ سے اس بارے میں سوال کیا تھا تو میں نے کہا تھا کہ اگر وہ اپنے نفس کو اختیار کرلے تو ایک طلاق بائنہ ہے اور اگر اپنے خاوند کو اختیار کرلے تو ایک طلاق ہوگی، اور خاوند رجوع کا زیادہ حق دار ہوگا۔ انھوں نے فرمایا کہ جو تم نے کہا ہے وہ درست نہیں، اگر وہ اپنے نفس کو اختیار کرلے تو ایک طلاق ہوگی اور آدمی رجوع کا زیادہ حقدار ہوگا، اور اگر اس نے اپنے خاوند کو اختیار کیا تو کچھ لازم نہ ہوا اور وہ آدمی اس عورت کا زیادہ حق دار ہوگا۔ امیر المومنین کے یہ فرمادینے کے بعد میرے پاس ان کی اتباع کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ جب مجھے امیر بنایا گیا اور میرے پاس شادی کے مسائل لائے جانے لگے تو میں نے دوبارہ سابقہ رائے کو اختیار کرلیا۔ ان سے کہا گیا کہ جماعت کے سامنے آپ کی جو رائے ہے وہ ہمارے نزدیک آپ کی تنہائی والی رائے سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ اس پر حضرت علی (رض) مسکرا دیئے اور فرمایا کہ انھوں نے حضرت زید بن ثابت (رض) کی طرف پیغام بھیجا اور اس مسئلے کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ اگر اس نے اپنے نفس کو اختیار کرلیا تو تین طلاقیں ہوگئیں اور اگر اس نے اپنے خاوند کو اختیار کرلیا تو ایک طلاق ہوگی۔