(۱۸۴۲۶) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ حُمَیْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ ؛ أَنَّ رَجُلاً جَعَلَ أَمْرَ امْرَأَتِہِ بِیَدِہَا ، فَقَامَتْ وَلَمْ تَقْضِ شَیْئًا ، فَرُفِعَ إلَی ابْنِ الزُّبَیْرِ ، فَقَالَ : عَلَی مَا قُمْتِ ؟ قَالَتْ : عَلَی أَنْ لاَ أَرْجِعَ إلَیْہِ ، فَأَبَانَہَا عَنْہُ۔
(١٨٤٢٦) حضرت حسن بن مسلم (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کا معاملہ اسی کو سونپ دیا وہ کھڑی ہوئی اور اس نے کوئی فیصلہ نہ کیا، یہ معاملہ حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) کے پاس پیش ہوا، انھوں نے عورت سے پوچھا کہ تم کس نیت سے کھڑی ہوئی تھیں ؟ اس نے کہا کہ میں اس ارادے سے کھڑی ہوئی تھی کہ دوبارہ کبھی اس کے پاس نہ آؤں گی۔ حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) نے اس عورت کو آدمی سے جدا کرادیا۔