(۱۸۴۳۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنِ الزُّبَیْرِ بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ یَزِیدَ بْنِ رُکَانَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ جَدِّہِ ؛ أَنَّہُ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ اَلْبَتَّۃَ ، فَأَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَہُ ؟ فَقَالَ : مَا أَرَدْتَ بِہَا ؟ فَقَالَ : وَاحِدَۃً ، قَالَ : آللَّہِ مَا أَرَدْتُ بِہَا إلاَّ وَاحِدَۃً ؟ قَالَ : آللَّہِ مَا أَرَدْتُ بِہَا إِلاَّ وَاحِدَۃً ، قَالَ : فَرَدَّہَا عَلَیْہِ۔ (ابوداؤد ۲۲۰۱۔ بیہقی ۳۴۲)
(١٨٤٣٧) حضرت عبداللہ بن علی بن یزید بن رکانہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ان کے داد احضرت رکانہ (رض) نے اپنے بیوی کو قطعی طلاق دی، پھر وہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے اس بارے میں سوال کیا تو آپ نے پوچھا کہ اس سے تمہارا ارادہ کیا تھا ؟ انھوں نے کہا کہ ایک طلاق کا ارادہ تھا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر پوچھا کہ کیا خدا کی قسم ایک ہی طلاق کا ارادہ تھا ؟ انھوں نے فرمایا کہ میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ایک ہی طلاق کا ارادہ تھا۔ لہٰذا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے نکاح کو باقی رکھا۔