(۱۸۴۷۰) حدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ حَبِیبٍ ، عَنْ عَمْرٍو ، قَالَ : سُئِلَ جَابِرُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ رَجُلٍ لَزِمَتْہُ امْرَأَتُہُ تَسْأَلُہُ الطَّلاَقَ ، فَقَالَ : اذْہَبِی فَأَنَا مِنْک بَرِیئٌ ، وَأَنْتِ مِنِّی بَرِیئَۃٌ ، وَلاَ یَنْوِی الطَّلاَقَ حِینَئِذٍ ؟ فَقَالَ : إِنْ لَمْ یَکُنْ نَوَی الطَّلاَقَ فَلَیْسَ بِطَلاَقٍ ، وَإِنْ کَانَ نَوَی الطَّلاَقَ فَہِیَ وَاحِدَۃٌ ، وَلَہُ أَنْ یُرَاجِعَہَا فِی عِدَّتِہَا۔
(١٨٤٧٠) حضرت عمرو (رض) کہتے ہیں کہ حضرت جابر بن زید (رض) سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی آدمی کی بیوی اس سے طلاق پر اصرار کرے اور وہ اس سے کہے کہ جا تو میری طرف سے آزاد ہے اور میں تیری طرف سے آزاد ہوں اور وہ طلاق کی نیت نہ کرے تو کیا حکم ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ اگر طلاق کی نیت نہ کی تو طلاق نہ ہوگی اور اگر طلاق کی نیت کی تو ایک طلاق ہوگی اور اسے عدت میں رجوع کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔