(۱۸۵۷۹) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ ہَاشم ، عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ : أہْدَی رَجُلٌ مِنْ ہَمْدَانَ لِعَلِیٍّ جَارِیَۃً ، فَلَمَّا أَتَتْہُ سَأَلَہَا عَلِیٌّ : أَفَارِغَۃٌ ، أَمْ مَشْغُولَۃٌ ؟ فَقَالَتْ : مَشْغُولَۃٌ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، قَالَ : فَاعْتَزَلَہَا ، وَأَرْسَلَ إلَی زَوْجِہَا فَاشْتَرَی بُضْعَہَا مِنْہُ بِعِشْرِینَ وَأَرْبَعِ مِئَۃٍ۔
(١٨٥٧٩) حضرت شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ ہمدان کے ایک آدمی نے اپنی ایک باندی حضرت علی (رض) کو ہدیہ میں دی، جب وہ ان کے پاس آئی تو حضرت علی (رض) نے اس سے سوال کیا کہ تو فارغہ ہے یا مشغول ہے ؟ اس نے کہا اے امیر المؤمنین ! میں مشغول ہوں یعنی میرا خاوند ہے، حضرت علی (رض) اس سے پیچھے ہٹ گئے اور اس کے خاوند کو پیغام بھیج کر بلوایا اور اس کا حق چار سو بیس میں خرید لیا۔