(۱۸۵۸۱) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ قَالَ : نُبِّئْتُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ رَأَی امْرَأَۃً فَأَعْجَبَتْہُ ، فَسَأَلَ عَنْہَا ؟ قَالُوا : ہَذِہِ أَمَۃٌ لِفُلاَنٍ ، فَاشْتَرَاہَا بِأَرْبَعَۃِ آلاَفٍ دِرْہَمٍ ، وَإِذَا لَہَا زَوْجٌ ، فَأَعْطَاہُ مِئَۃَ دِرْہَمٍ عَلَی أَنْ یُطَلِّقَہَا فَأَبَی ، فَزَادَہُ فَأَبَی ، فَزَادَہُ فَأَبَی حَتَّی بَلَغَ خَمْسَ مِئَۃِ دِرْہَمٍ فَأَبَی ، فَرَدَّہَا عَلَیْہِ۔
(١٨٥٨١) حضرت ابن سیرین (رض) فرماتے ہیں کہ مجھے خبر دی گئی کہ حضرت عبد الرحمن (رض) نے ایک عورت دیکھی جو انھیں بھلی محسوس ہوئی، انھوں نے اس کے متعلق پوچھا کہ یہ کون ہے ؟ انھیں بتایا گیا کہ یہ فلاں کی باندی ہے، انھوں نے چار ہزار درہم کے عوض اسے خرید لیا، بعد میں معلوم ہوا کہ اس کا خاوند بھی ہے، چنانچہ انھوں نے اس کے خاوند کو ایک سو درہم دیئے کہ وہ اسے طلاق دے دے، اس نے طلاق دینے سے انکار کردیا، انھوں نے رقم کو بڑھایا اس نے پھر انکار کیا وہ بڑھاتے رہے اور وہ انکار کرتا رہا یہاں تک کہ انھوں نے پانچ سو درہم دینے کی پیش کش کی لیکن اس نے پھر بھی انکار کردیا تو حضرت عبد الرحمن (رض) نے وہ باندی اس کو دے دی۔