(۱۸۶۵) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، عَنْ أَفْلَحَ مَوْلَی أَبِی أَیُّوبَ ، عَنْ أَبِی أَیُّوبَ ؛ أَنَّہُ کَانَ یَأْمُرُ بِالْمَسْحِ عَلَی الْخُفَّیْنِ ، وَکَانَ ہُوَ یَغْسِلُ قَدَمَیْہِ ، فَقِیلَ لَہُ فِی ذَلِکَ : کَیْفَ تَأْمُرُ بِالْمَسْحِ وَأَنْتَ تَغْسِلُ؟ فَقَالَ: بِئْسَ مَا لِی إِنْ کَانَ مَہْنَأۃً لَکُمْ وَمَأْثَمۃً عَلَیَّ ، قَدْ رَأَیْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَفْعَلُہُ وَیَأْمُرُ بِہِ ، وَلَکِنْ حُبِّبَ إلَیَّ الْوُضُوئُ۔ (احمد ۵/۴۲۱)
(١٨٦٥) حضرت افلح فرماتے ہیں کہ حضرت ابو ایوب موزوں پر مسح کا حکم دیا کرتے تھے لیکن خود پاؤں دھویا کرتے تھے۔ ان سے کسی نے پوچھا کہ آپ لوگوں کو موزوں پر مسح کا حکم دیتے ہیں لیکن خود پاؤں دھوتے ہیں ؟ فرمانے لگے کہ میں اسے تمہارے لیے گنجائش اور اپنے لیے گناہ سمجھتا ہوں۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو موزوں پر مسح کا حکم دیتے اور پاؤں دھوتے دیکھا ہے اور مجھے بھی وضو ہی پسند ہے۔