(۱۸۶۸۸) حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ ، وَسُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ ، وَحُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ؛ سَمِعْنَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ : سَأَلْتُ عُمَرَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَہْلِ الْبَحْرَیْنِ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ تَطْلِیقَۃً ، أَوْ تَطْلِیقَتَیْنِ فَتَزَوَّجَتْ ، ثُمَّ إنَّ زَوْجَہَا طَلَّقَہَا ، ثُمَّ إنَّ الأَوَّلَ تَزَوَّجَہَا ، عَلَی کَمْ ہِیَ عِنْدَہُ ؟ قَالَ : ہِیَ عَلَی مَا بَقِیَ مِنَ الطَّلاَقِ۔
(١٨٦٨٨) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر (رض) سے بحرین کے ایک آدمی کے بارے میں سوال کیا جس نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دے دی تھیں، پھر اس عورت نے شادی کی اور اس کے دوسرے خاوند نے بھی اسے طلاق دے دی، پھر پہلے خاوند نے اس سے نکاح کیا تو اس کے پاس کتنی طلاقوں کا حق ہوگا، انھوں نے فرمایا کہ اس کے پاس باقی ماندہ طلاق کا حق ہوگا۔