(۱۸۶۹۰) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ؛ أَنَّ زِیَادًا سَأَلَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَیْنٍ ،وَشُرَیْحًا عَنِ الرَّجُلِ یُطَلِّقُ امْرَأَتَہُ تَطْلِیقَۃً ، أَوْ تَطْلِیقَتَیْنِ ، فَتَبِینُ ، فَیَتَزَوَّجُہَا رَجُلٌ فَیُطَلِّقُہَا ، أَوْ یَمُوتُ عَنْہَا ، فَیَتَزَوَّجُہَا الأَوَّلُ ، عَلَی کَمْ تَکُونُ عِنْدَہُ؟ فَقَالَ عِمْرَانُ : عَلَی مَا بَقِیَ مِنَ الطَّلاَقِ ، وَقَالَ شُرَیْحٌ: نِکَاحٌ جَدِیدٌ ، وَطَلاَقٌ جَدِیدٌ۔
(١٨٦٩٠) حضرت شعبی (رض) کہتے ہیں کہ حضرت زیاد (رض) نے عمران بن حصین (رض) اور حضرت شریح (رض) سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جس نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دے دیں، پھر وہ بائنہ ہوگئی اور پھر کسی آدمی نے اس سے شادی کرکے اسے طلاق دے دی یا وہ فوت ہوگیا، اور پھر پہلے آدمی نے اس سے شادی کرلی تو اس کے پاس کتنی طلاقوں کا حق باقی رہے گا ؟ حضرت عمران (رض) نے فرمایا کہ باقی ماندہ طلاقوں کا جبکہ حضرت شریح (رض) نے فرمایا کہ نیا نکاح اور نئی طلاق ہے۔