(۱۸۷۱۹) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ أَبی الدَّردَاء ، قَالَ : کَانَ الرَّجُلُ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ یُطَلِّقُ ثُمَّ یَرْجِعُ ، یَقُولُ : کُنْتُ لاَعِبًا ، وَیُعْتِقُ ثُمَّ یَرْجِعُ ، یَقُولُ : کُنْتُ لاَعِبًا ، فَأَنْزَلَ اللَّہُ تَعَالَی: {وَلاَ تَتَّخِذُوا آیَاتِ اللہِ ہُزُوًا} ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ طَلَّقَ ، أَوْ حَرَّرَ ، أَوْ أَنْکَحَ ، أَوْ نَکَحَ ، فَقَالَ إنِّی کُنْتُ لاَعِبًا فَہُوَ جَائِزٌ۔ (طبری ۴۸۲۔ طبرانی ۷۸۰)
(١٨٧١٩) حضرت ابو دردائ (رض) فرماتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں آدمی اپنی بیوی کو طلاق دینے کے بعد رجوع کرلیتا تھا اور کہتا تھا کہ میں تو مزاح کررہا تھا، غلام کو آزاد کرتا تھا اور رجوع کرلیتا تھا اور کہتا تھا کہ میں تو مزاح کررہا تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا { وَلاَ تَتَّخِذُوا آیَاتِ اللہِ ہُزُوًا } اللہ کی آیات کو مذاق نہ بناؤ، اس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جس نے طلاق دی، غلام کو آزاد کرایا، نکاح کرایا یا نکاح کیا اور پھر کہا کہ میں تو مزاح کررہا تھا یہ چیزیں پھر بھی نافذ ہوجائیں گی۔