(۱۸۸۲۲) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ حَبیب بْنِ مِہْرَانَ التَّیمِیِّ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَبْدَ اللہِ بْنَ أَبِی أَوْفَی عَنِ امْرَأَۃٍ اخْتَلَعَتْ مِنْ زَوْجِہَا بِبَقِیَّۃِ مَہْرٍ کَانَ لَہَا عَلَیْہِ ، فَہَلْ لَہُمَا أَنْ یَتَرَاجَعَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، إِنْ لَمْ یَکُنْ ذَکَرَ فِیہَا طَلاَقًا بِمَہْرٍ جَدِیدٍ ، قَالَ : وَسَأَلْتُ مَاہَانَ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ ، وَلَوْ بِکُوزٍ مِنَ الْمَائِ۔
(١٨٨٢٢) حضرت حبیب بن مہران (رض) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) سے سوال کیا کہ اگر کسی عورت نے اپنے خاوند سے باقی ماندہ مہر کے عوض خلع کی تو کیا وہ رجوع کرسکتے ہیں، انھوں نے فرمایا کہ ہاں اگر طلاق کا ذکر نہ کیا ہو نئے مہر کے ساتھ رجوع کرسکتے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ماہان (رض) سے سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ ہاں خواہ پانی کی ایک صراحی کے بدلے ہی کیوں نہ ہو۔