(۱۸۸۹) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ وَہْبٍ الثَّقَفِیِّ ، عَنِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَہَبَ لِیَحْسِرَ یَدَہُ ، وَعَلَیْہِ جُبَّۃٌ شَامِیَّۃٌ ضَیِّقَۃُ الْکُمَّیْنِ ، فَأَخْرَجَ یَدَہُ مِنْ تَحْتِہَا إخْرَاجًا ، فَغَسَلَ وَجْہَہُ وَیَدَیْہِ ، ثُمَّ مَسَحَ بِنَاصِیَتِہِ ، وَمَسَحَ عَلَی الْعِمَامَۃِ ، وَمَسَحَ عَلَی الْخُفَّیْنِ۔
(١٨٨٩) حضرت مغیرہ بن شعبہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تنگ آستینوں والا شامی جبّہ زیب تن فرما رکھا تھا۔ اس کے آستینوں کے تنگ ہونے کی وجہ سے آپ نے ہاتھوں کو نیچے سے نکالا۔ پھر اپنے چہرے اور ہاتھوں کو دھویا، پھر پیشانی کا مسح فرمایا اور پگڑی اور موزوں کا مسح فرمایا۔