(۱۸۹۴۷) حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاکٍ ، عَنْ حُرَیْث بن عَمِیرَۃَ ، عَنْ أُمِّ عَطِیَّۃَ قَالَتْ : قَالَ جُبَیْرٌ لامْرَأَتِہِ : إن ابْنَ أَخِی مَعَ ابْنِکَ ، فَقَالَتْ : مَا أَسْتَطِیعُ أَنْ أُرْضِعَ اثْنَیْنِ ، قَالَ : فَحَلَفَ أَنْ لاَ یَقْرَبَہَا حَتَّی تَفْطِمَہُ قَالَ : فَلَمَّا فَطَمُوہُ مُرَّ بِہِ عَلَی الْمَجْلِسِ فَقَالَ الْقَوْمُ : حَسَنٌ مَا غَذَوْتُمُوہُ قَالَ : فَقَالَ جُبَیْرٌ : إنِّی حَلَفْت أَنْ لاَ أَقْرَبَہَا حَتَّی تَفْطِمَہُ ، قَالَ : فَقَالَ الْقَوْمُ : ہَذَا إیلاَئٌ ، فَقَالَ لَہُ عَلِیٌّ : إِنْ کُنْتَ فَعَلْتَ ذَلِکَ غَضَبًا ، فَلاَ تَحِلُّ لَکَ امْرَأَتُکَ ، وَإِلاَّ فَہِیَ امْرَأَتُکَ۔
(١٨٩٤٧) حضرت ام عطیہ (رض) فرماتی ہیں کہ حضرت جبیر (رض) نے اپنی بیوی سے کہا کہ میرے بھائی کا بیٹا تیرے بیٹے کے ساتھ دودھ پئے گا، انھوں نے کہا کہ میں دو بچوں کو دودھ نہیں پلا سکتی، حضرت جبیر (رض) نے قسم کھالی کہ جب تک وہ اس بچے کو دودھ نہیں چھڑا دیتیں اس وقت تک وہ اپنی بیوی کے قریب نہ جائیں گے۔ جب اس بچے کا دودھ چھڑا دیا گیا اور وہ لوگوں کے پاس سے گذرا تو لوگوں نے کہا کہ تم نے اسے اچھی غذا دی ہے، حضرت جبیر (رض) نے کہا کہ میں نے قسم کھائی تھی کہ میں اس وقت تک اپنی بیوی کے قریب نہیں جاؤں گا جب تک وہ اس کا دودھ نہیں چھڑا دیتی، لوگوں نے کہا کہ یہ ایلاء ہے، حضرت علی (رض) نے فرمایا کہ اگر تم نے غصے میں ایسا کیا تھا تو تمہارے لیے تمہاری بیوی حلال نہیں اور اگر غصے میں نہیں کیا تو یہ تمہاری بیوی ہے۔