(۱۸۹۸۳) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ قَالَ : سَأَلْتُ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ ، عَنْ رَجُلٍ یُطَلِّقُ امْرَأَتَہُ وَہِیَ فی بَیْتٍ بِکِرَائٍ عَلَی مَنِ الْکِرَائُ ؟ قَالَ : عَلَی زَوْجِہَا ، قَالَ : فَإِنْ لَمْ یَکُنْ عِنْدَ زَوْجِہَا قَالَ : فَعَلَیْہَا ، قَالَ : فَإِنْ لَمْ یَکُنْ عِنْدَہَا ؟ قَالَ : فَعَلَی الأَمِیرِ۔
(١٨٩٨٣) حضرت یحییٰ بن سعید (رض) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن مسیب (رض) سے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دے اور وہ کسی کرائے کے گھر میں رہتی ہو تو کرایہ کس پر لازم ہوگا ؟ انھوں نے فرمایا کہ اس کے خاوند پر، میں نے پوچھا کہ اگر اس کے خاوند کے پاس کرایہ نہ ہو تو کس پر واجب ہوگا ؟ انھوں نے فرمایا کہ اس عورت پر، میں نے عرض کیا کہ اگر اس عورت کے پاس بھی نہ ہو تو پھر کس پر واجب ہوگا ؟ انھوں نے فرمایا کہ امیر پر۔