(۱۹۰۵۸) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِی وَحْشِیَّۃَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَیْدٍ قَالَ : تَذَاکَرَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، وَابْنُ عُمَرَ امْرَأَۃَ الْمَفْقُودِ فَقَالاَ : جَمِیعًا : تَرَبَّصُ أَرْبَعَ سِنِینَ ، ثُمَّ یُطَلِّقُہَا وَلِیُّ زَوْجِہَا ، ثُمَّ تَرَبَّصُ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا ، ثُمَّ تَذَاکَرَا النَّفَقَۃَ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : لَہَا النَّفَقَۃُ فِی مَالِہِ بِحَبْسِہَا نَفْسَہَا فِی سَبَبِہِ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لَیْسَ کَذَلِکَ ، إذَنْ تُجْحِفُ بِالْوَرَثَۃِ وَلَکِنَّہَا تَأْخُذُ عَلَیْہِ فِی مَالِہِ فَإِنْ قَدِمَ فَذَلِکَ لَہَا عَلَیْہِ فِی مَالِہِ وَإِلاَّ فَلاَ شَیْئَ لَہَا۔
(١٩٠٥٨) حضرت جابر بن زید (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کے مابین اس عورت کے بارے میں گفتگو ہوئی جس کا خاوند گم ہوگیا ہو، دونوں حضرات نے فرمایا کہ وہ چار سال انتظار کرے گی پھر اس کے خاوند کا ولی اسے طلاق دے دے گا، پھر وہ چار مہینے اور دس دن تک عدت گذارے گی، پھر ان دونوں حضرات کے درمیان نفقہ کے بارے میں گفتگو ہوئی تو حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا کہ عورت کو مرد کے مال میں سے نفقہ ملے گا کیونکہ اس کی وجہ سے عورت رکی رہی ہے، حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ ایسا نہیں ہے، اس طرح تو ورثہ کا نقصان ہوگا، البتہ عورت مرد کے مال میں سے لے گی اگر وہ آگیا تو وہ مال عورت کا ہوگا اور اگر وہ نہ آیا تو عورت کو کچھ نہیں ملے گا۔