(۱۹۰۸۹) حَدَّثَنَا الثَّقَفِیُّ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْقَاسِمَ وَذُکِرَ لَہُ أَنَّ عَبْدَ الْمَلِکِ بْنَ مَرْوَانَ فَرَّقَ بَیْنَ رِجَالٍ وَنِسَائِہِمْ کُنَّ أُمَّہَاتِ أَوْلاَدٍ نُکِحْنَ بَعْدَ حَیْضَۃٍ ، أَوْ حَیْضَتَیْنِ حَتَّی یَعْتَدِدْنَ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا فَقَالَ : سُبْحَانَ اللہِ ، یَقُولُ اللَّہُ فِی کِتَابِہِ : {وَالَّذِینَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَیَذَرُونَ أَزْوَاجًا} أَتُرَاہُنَّ مِنَ الأزْوَاج۔
(١٩٠٨٩) حضرت یحییٰ بن سعید (رض) کہتے ہیں کہ حضرت قاسم (رض) کے سامنے کسی نے تذکرہ کیا کہ عبد الملک بن مروان (رض) نے مردوں اور ان کی ایسی بیویوں کے درمیان جدائی کرادی جو اپنے آقاؤں کی ام ولد تھیں۔ لیکن ایک یا دو حیضوں کے بعد ان کے نکاح کرادیئے گئے تھے۔ عبدالملک بن مروان (رض) کا حکم تھا کہ وہ چار مہینے دس دن کی عدت گزاریں۔ یہ سن کر حضرت قاسم (رض) نے فرمایا سبحان اللہ ! اللہ تعالیٰ تو قرآن مجید میں فرماتے ہیں { وَالَّذِینَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَیَذَرُونَ أَزْوَاجًا } تو کیا یہ آقا ان کے خاوند ہیں ؟