(۱۹۱۲۴) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ مُسْلِمٍ قَالَ : قُلْتُ لِلشَّعْبِیِّ : رَجُلٌ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ فَجَائَ آخَرُ فَتَزَوَّجَہَا ؟ قَالَ عُمَرُ : یُفَرَّقُ بَیْنَہُمَا وَتُکْمِلُ عِدَّتَہَا الأُولَی ، وَتأْتنِف مِنْ ہَذَا عِدَّۃً جَدِیدَۃً وَیُجْعَلُ الصَّدَاقُ فِی بَیْتِ الْمَالِ وَلاَ یَتَزَوَّجُہَا الثَّانِی أَبَدًا ، وَیَصِیرُ الأَوَّلُ خَاطِبًا ، وَقَالَ عَلِیٌّ : یُفَرَّقُ بَیْنَہَا وَبَیْنَ زَوْجِہَا ، وَتُکْمِلُ عِدَّتَہَا الأُولَی ، وَتَعْتَدُّ مِنْ ہَذَا عِدَّۃً جَدِیدَۃً ، وَیُجْعَلُ لَہَا الصَّدَاقُ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِہَا ، وَیَصِیرَانِ کِلاَہُمَا خَاطِبَیْنِ۔
(١٩١٢٤) حضرت صالح بن مسلم (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دے اور پھر عدت میں کوئی دوسرا آدمی اس سے شادی کرلے تو کیا حکم ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ ان دونوں کے درمیان جدائی کرادی جائے گی۔ اور وہ دوسرے خاوند سے نئے سرے سے عدت شروع کرے گی اور اس کا مہر بیت المال سے دیا جائے گا۔ دوسرا خاوند تو اس سے کبھی شادی نہیں کرسکتا اور پہلا خاوند پیام نکاح بھیج سکتا ہے۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ اس کے اور اس کے خاوند کے درمیان جدائی کرا دی جائے گی۔ وہ پہلی عدت کو پورا کرے گی اور اس خاوند سے نئی عدت گزارے گی۔ وہ آدمی ہی اس کا مہر دے گا اور وہ دونوں اسے پیام نکاح بھجوا سکتے ہیں۔