(۱۹۱۹) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِی الْعَلاَئِ قَالَ : بَعَثَنَا عَلِیٌّ إِلَی صِفِّینَ ، وَاسْتَعْملَ عَلَیْنَا قَیْسَ بْنَ سَعْدٍ ، خَادِمَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَسِرْنَا حَتَّی أَتیْنَا مَسْکَنَ ، فَرَأَیْتُ قَیْسًا بَالَ ثُمَّ أَتَی شَطَّ دِجْلَۃَ فَتَوَضَّأَ ، وَمَسَحَ عَلَی خُفَّیْہِ ، فَرَأَیْتُ أَثَرَ أَصَابِعِہِ عَلَی خُفَّیْہِ۔
(١٩١٩) حضرت ابو العلاء فرماتے ہیں کہ حضرت علی نے ہمیں صفین کی جانب روانہ فرمایا اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خادم حضرت قیس بن سعد کو ہمارا ذمہ دار بنایا۔ جب ہم تمام مسکن میں پہنچے تو حضرت قیس نے پیشاب کیا پھر دریائے دجلہ کے کنارے وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا میں نے ان کے موزوں پر انگلیوں کے نشانات کو دیکھا۔