(۱۹۲۳۴) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ جُوَیْبِرٍ ، عَنِ الضَّحَّاکِ بْنِ مُزَاحِمٍ أَنَّ امْرَأَۃً تَزَوَّجَتْ شَابًّا فَطَلَّقَہَا تَطْلِیقَۃً ، أَوْ تَطْلِیقَتَیْنِ قَالَ : فَأَتَاہَا وَہِیَ تَغْتَسِلُ مِنَ الْحَیْضَۃِ الثَّالِثَۃِ فَقَالَ : یَا فُلاَنَۃُ إنِّی قَدْ رَاجَعْتُک ، فَقَالَتْ : کَذَبْت، لَیْسَ ذَلِکَ إلَیْک ، فَارْتَفَعُوا إلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، وَعِنْدَہُ عَبْدُ اللہِ بْنُ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ عُمَرُ : مَا تَرَی یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ؟ قَالَ : فَقَالَ : أَنْشُدُک بِاَللَّہِ ، ہَلْ کُنْت لَطَمْتِیہِ بِالْمَائِ ؟ قَالَتْ : مَا فَعَلْت ، قَالَ : فَقَالَ : خُذْ بِیَدِہَا۔
(١٩٢٣٤) حضرت ضحاک بن مزاحم (رض) فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک عورت نے کسی نوجوان سے شادی کی ۔ اس نوجوان نے اسے ایک یا دو طلاقیں دے دیں۔ پھر وہ اس کے پاس اس وقت آیا جب وہ عورت تیسرے حیض کا غسل کررہی تھی۔ اور اس سے کہا کہ اے فلانی ! میں نے تجھ سے رجوع کیا۔ اس عورت نے کہا کہ تو نے جھوٹ بولا ! تو ایسا کر ہی نہیں سکتا۔ پھر یہ مقدمہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس پیش ہوا۔ ان کے پاس حضرت عبداللہ (رض) بھی بیٹھے تھے۔ حضرت عمر (رض) نے ان سے فرمایا کہ اے ابو عبدالرحمن ! آپ کی کیا رائے ہے ؟ انھوں نے عورت کو قسم دے کر پوچھا کہ کیا تو نے اپنے جسم پر پانی ڈال لیا تھا ؟ اس نے کہا نہیں۔ حضرت عبداللہ (رض) نے نوجوان سے فرمایا کہ اس کا ہاتھ پکڑ کر لے جا۔