(۱۹۲۴۰) حَدَّثَنَا عَبدَۃ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ أَبِی مَعْشَرٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ؛ أَنَّ أَبَا کَنَفٍ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ ، ثُمَّ سَافَرَ وَرَاجَعَہَا ، وَکَتَبَ إلَیْہَا بِذَلِکَ ، وَأَشْہَدَ عَلَی ذَلِکَ ، فَلَمْ یَبْلُغْہَا الْکِتَابُ حَتَّی انْقَضَتِ الْعِدَّۃُ ، فَتَزَوَّجَتِ الْمَرْأَۃُ فَرَکِبَ إلَی عُمَرَ ، فَقَصَّ عَلَیْہِ الْقِصَّۃَ فَقَالَ : أَنْتَ أَحَقُّ بِہَا مَا لَمْ یَدْخُلْ بِہَا۔
(١٩٢٤٠) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ ابوکنف (رض) نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور پھر سفر پر چلے گئے اور بیوی سے رجوع کرلیا۔ اس کی طرف خط بھی لکھا اور اس رجوع پر گواہ بھی بنا لئے۔ عورت کو ان کا خط نہیں ملا اور عدت کے پورا ہونے پر اس نے شادی کرلی۔ ابو کنف (رض) حضرت عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ عرض کیا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ تم اس عورت کے اس وقت تک زیادہ حقدار ہو جب تک وہ اس سے دخول نہ کرلے۔