(۱۹۲۵) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی إِسْحَاقَ ، أَنَّہُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ ، سُئِلَ عَنِ الْمَسْحِ عَلَی الْخُفَّیْنِ؟ فَقَالَ : امْسَحْ عَلَیْہِمَا ، فَقَالُوا لَہُ : أَسَمِعْتَہُ مِنَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : لاَ ، وَلَکِنْ سَمِعْتُہُ مِمَّنْ لَمْ یُتَّہَمْ مِنْ أَصْحَابِنَا یَقُولُونَ : الْمَسْحُ عَلَی الْخُفَّیْنِ ، وَإِنْ صَنَعَ کَذَا وَکَذَا ، لاَ یَکْنِی۔
(١٩٢٥) حضرت یحییٰ بن ابی اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک سے موزوں پر مسح کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے فرمایا کہ ان پر مسح کرو۔ لوگوں نے پوچھا کہ کیا آپ نے اس کا حکم حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے ؟ انھوں نے فرمایا نہیں۔ البتہ میں نے یہ حکم ان اصحاب سے سنا ہے جو تہمت سے پاک تھے، وہ فرماتے تھے کہ اگرچہ پیشاب پاخانہ بھی کیا ہو پھر بھی موزوں پر مسح ہوسکتا ہے۔