(۱۹۳۰۹) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ أَنَّ أمینۃ بِنْتَ عُثْمَانَ تُوُفِّیَ زَوْجُہَا فَرَمِدَتْ عَیْنُہَا ، فَبَعَثَتْ إلَی عَائِشَۃَ تَسْأَلُہَا ، فَنَہَتْہَا أَنْ تَکْتَحِلَ بِالإِثْمِدِ ، فَبَعَثَتْ إلَیہَا إنِّی قَد کُنت عَودتہ عَینِی ، وَإِنی قَد خَشَیت عَلَیہَا ، فَبَعَثَتُ إِلَیہَا لاَ تَکْتَحِلْ بِالإِثْمِدِ ، وَإِنِ أنْفَضَختْ عَیْنُک۔
(١٩٣٠٩) حضرت قتادہ (رض) فرماتے ہیں کہ امینہ بنت عثمان (رض) کے خاوند فوت ہوگئے، خاوند کی فوتیدگی کے بعد ان کی آنکھ میں تکلیف ہوگئی۔ انھوں نے حضرت عائشہ (رض) کے پاس کسی کو بھیج کر پوچھا کہ بیماری کی صورت میں میں آنکھوں میں اثمد سرمہ لگایا کرتی تھی۔ مجھے اپنی آنکھ کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہے تو کیا میں وہی سرمہ استعمال کرلوں ؟ حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا کہ اثمد سرمہ ہرگز نہ لگانا خواہ تمہاری آنکھ ہی ضائع ہوجائے۔